Legal situation:
Section 377 of the Pakistani penal code allows for two to 10 years in prison for “carnal intercourse against the order of nature”. Islamic law, reintroduced in 1979 by former president General Zia ul-Haq, punishes any penetrative sexual behaviour, except penile-vaginal sex within marriage, with up to 100 lashes or death by stoning. Similar to the situation in Afghanistan, the principles of Islamic law are incorporated, at least in theory, into the Pakistani civil code. A case is pursued under secular or Sharia law of the legal systems, and both have different mechanisms of prosecution, defence, judgment and penalty. No civil rights legislation exists to prohibit public or private sector discrimination on the basis of sexual orientation or gender identity, nor are there any mainstream political parties or organizations in Pakistan publicly supporting LGBTI rights legislation.

Social situation:
The phenomena and tradition of third gender in South and Southeast Asia have been there for thousands of years with communities of metis, hijras, khawaja siras, katoeys, and baklavas – communities that have played a role in society if not necessarily being respected as equal human beings. Like transgender people in many countries they are sometimes the subjects of ridicule, abuse, sexual objectification and violence. That said they enjoy a little bit of tolerance due to their position in pre-colonial society. Historically, transgenders used to have a lot of respect during Mughal times, however, in modern day Pakistan, trans people are highly marginalized and subject to verbal, sexual and physical violence, stigma and discrimination

Political situation:
Pakistan is an Islamic country and ruled by both Sharia as well as colonial/common laws. Ex-president Pervez Musharaff introduced some freedom to heterosexual couples, and police can no longer stop couples to check their marriage certificate. Sex outside of marriage is punishable by stoning to death under the Sharia law. As of to day, no one has been charged according to Section 377, but police frequently use this article to blackmail gays and transgenders. There is little or no media coverage of LGBTI issues, and whatever there is, is negative.

General LGBTI situation:
Political parties, interest groups and other political organizations in Pakistan are required to respect Islam and “public morality”, which may prelude any endorsement of LGBTI rights. However, in 2009, the Pakistani Supreme Court ruled that the government must take proactive steps to protect eunuchs from harassment and discrimination. The Supreme Court judgement is only to award the khawaja sira identity to transwomen. This does not include transgenders who do not identify themselves as khawaja sira and nor does it include transmen. Furthermore, the judgements did not come with any social/legal protection or anti-discriminatory laws. The LGBTI community in Pakistan has not formally begun to campaign for LGBTI-rights, but there is growing public tolerance for social gatherings of gay men in the larger cities.


Current Activities

SAHRA’s Pakistani partner will start documentation training and human rights awareness classes soon.
For further information, please contact SAHRA via e-mail


Contact

You can contact us at pakistan (at) sahra.asia


پاکستان

قانونی صورتحال :

پاکستانی ضابطہ تعزیرات PPC ))کا سیکشن 773 فطرت کہ خلاف مباشرت پر دو سے دس سال قید کی سزا دیتا ہے. اسلامی قانون ، جسے صدر جنرل ضیاء نے ١٩٧٩ میں متعارف کروایا، شادی کے علاوہ کسی بھی اسے جنسی عمل جو کہ دخول پر مبنی ہو پر ستر کوڑوں یا موت تک سنگساری کی سزا دیتا ہے. افغانستان کی طرح اسلامی قوانین کے اصولوں کو پاکسانی ضابطہ دیوانی میںبھی شامل کیا گیا. ایک مقدمہ کو سیکولر اور شرعی دونوں قانونی نظاموں میں سے کسی بھی نظام کے تحت پرکھا جا سکتا ہے. دونوں کے استغاثہ ، دفاع،فیصلہ سازی اور سزا کے طریقہ کار مختلف ہیں. پاکستان میں کوئی ایسا قانون نہیں جو کہ نجی اور سرکاری اداروں میں ترجیح جنس یا جنسی شناخت پر مبنی امتیازی سلوک کو روکتا ہو اور نہ ہی کوئی ایسی خاص سیاسی جماتیں یا ادارے موجود ہیں جو کھل کر LGBT افراد کے حقوق پر قانون سازی کی حمایت کرتے ہوں.

سماجی صورتحال:

جنوبی اور جنوب مسرقی ایشیا میں تیسری جنس کی موجودگی اور روایت ہزاروں سال سے موجود ہے. یہ گروہ میٹیز ، ہجڑا ، خواجہ سرا ، کاٹوے اور بکلاوا جیسے ناموں سے ان سماجوں میں موجود ہیں. ان گرہوں نے باقی انسانوں کے برار عزت نہ ملنے کے باوجود سماج میں ایک کردار ادا کیا ہے. بہت سے دوسرے ممالک کی طرح ٹرانس جنڈرtransgender) ) افراد تضحیک ، بد سلوکی ، جنسی تشکیل اور تشدد کا شکار رہیں ہیں. ان افراد کا ماننا ہے کے انگریز سرکار سے پہلے ان کے لئے سماج میں کچھ برداشت اور جگہ موجود تھی. تاریخی لحاظ سے ٹرانس جنڈر خواتین کو مغلوں کے دور میں بلند رتبہ حاصل تھا لیکن آج کے پاکستان میں ٹرانس لوگ نہ صرف غیر اہم ہیں بلکہ زبانی، جنسی اور جسمانی تشدد ، رسوائی اور امتیازی سلوک کا شکار ہیں.

سیاسی صورتحال:

پاکستان ایک اسلامی ملک ہے اور یہاں دونوں شرعی اور ضابطہ دیوانی پر مبنی قانونی نظام لاگو ہوتے ہیں. سابقہ صدر مشرف نے قوانین میں اتنی لچک پیدا کر دی کہ اب مرد عورت کے جوڑے کو پولیس نہیں چھیڑتی اور نہ ہی ان سے نکاح نامہ دریافت کرتی ہے. شرعی قانون کے مطابق شادی کے علاوہ جنسی روابط کی سزا خیر اب بھی سنگسار کرنا ہی ہے.آج تک کسی فرد کو بھی دفہ 773 کے تحت سزا نہیں ہوئی البتہ پولیس اس قانون کو ہم جنس پسندوں اور ٹرانس جنڈر افراد کو ستانے کیلئے استعمال کرتی ہے. میڈیا پر بھی LGBT مسائل پر نہ ہونے کے برابر بات ہوتی ہے اور جو ہوتی بھی ہے اس میں بہت منفی منظر کشی کی جاتی ہے.

عمومی LGBTI صورتحال :

پاکستان میں تمامسیاسی،معاشرتی اور دیگر جماعتوں پر اسلام اور عوامی اخلاقیات کا پاس رکھنا لازم ہے جس میں کسی بھی طرح LGBTI مسائل پر بات نہ کرنا بھی شامل ہے. البتہ ٢٠٠٩ میں پاکستان سپریم کورٹ نے ایک فیصلے میں کاکہا کہ حکومت وقت کو خواجہ سرا افراد کو امتیازی سلوک اور ہراساں ہونے سے بچانے کیلئے مستند اقدام اٹھانے چاہیے. البتہ سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ صرف ٹرانسجنڈر خواتین کو خواجہ سرا کی شناخت دے دیتا ہے. اس فیصلہ میں ان ٹرانسجنڈر افراد جو خود کو خواجہ سرا نہیں مانتے اور ٹرانسجنڈر مرد حضرات کے لئے کوئی بھی شک موجود نہیں ہے. اس فیصلے میں کسی بھی قسم کا سماجی یا قانونی تحفظ موجود نہیں ہے نہ ہی یہ فیصلہ امتیازی سلوک سے بچاتا ہے. پاکستان میں LGBTI افراد نے اپنے حقوق کے لئے مستند طریقے سے کسی مہم کا آغاز نہیں کیا البتہ شہروں کی عوام میں ہمجنس پسند مردوں کی اجتماعی ملاقاتوں کی روایت بڑھتی جا رہی ہے.


رابطہ

pakistan (at) sahra.asia